Nazim's poetry

Nazim's poetry

Saturday, March 17, 2012

Ye Jo Tmhara Mera Rishta hai

’اپنی کمپنی کی منیجر ایچ آر سے موصوف نے دوستی کر لی ہے‘ تاکہ وہ انہیں کسی وجہ سے کمپنی سے فرار نہ ہو۔‘‘ فاطمہ نے مزہ سے سموسہ کھاتے کھاتے بتایا۔
’’یہ کیا ماجرا ہے فاطمہ‘ مجھے صاف صاف لفظوں میں بتائو۔‘‘ پھوپھو کچھ سمجھ ہی نہ پا رہی تھیں۔ عادل کے سیل پہ رِنگ آنے لگے۔ شانزے کا نام جھلملا رہا تھا۔
’’اس کی باتوں میں مت آیئے گا پھوپھو‘ اس کو یوں بھی شوق ہے بال کی کھال اتارنے کا‘ شکر ہے اس کی کوئی نند دیورانی اور ساس نہیں ورنہ روز گھر میں جنگِ عظیم بپا ہوتی۔‘‘ عادل بھی کہاں پیچھے رہنے والا تھا‘ فوراً مقابلے پہ اتر آیا۔
’’سیل پہ فون مسلسل بجے جا رہا تھا۔ عادل اٹھ کے بالکنی میںآ گیا تھا۔ فون سننے کے لئے‘ دو دن سے اس نے شانزے سے بھی ٹھیک طرح سے بات نہیں کی تھی‘ اور شاید وہ خود بھی بات کرنا نہیں چاہ رہی تھی۔ اس کی ناراضگی اسی طرح طوفانی ہوتی تھی‘ بے وجہ بگڑنا اور کئی کئی دن بات نہ کرنا‘ آج نجانے اس نے کیسے خود ہی فون کر لیا تھا۔
’’ہیلو۔‘‘
’’فون کیوں نہیں پک کر رہے تھے تم میرا؟‘‘ شانزے سلام دعا کی فارملٹی کے بغیر چھوٹتے ہی بولی۔
’’بزی تھا یار‘ رنگ ٹون کی آواز ہی نہیں آئی۔‘‘ اسے شانزے کے غصے سے بہت ڈر لگتا تھا۔
’’کہاں بزِی تھے؟‘‘ وہ مسلسل سوال کر رہی تھی۔ شک کا بیج اس کے دل کی گہرائی میں بویا جا چکا تھا۔
’’دوستوں کے ساتھ تھا۔‘‘ وہ بولا۔ تبھی فاطمہ بالکنی کا گلاس ڈور کھول کے اندر آئی۔
’’عادل چلو چائے پی لو‘ ٹھنڈی ہو جائے گی۔‘‘ فاطمہ نے کہا۔ فاطمہ کی آواز شانزے نے بھی واضح طور پر سنی تھی‘ اور اس کے رُوم رُوم میں آگ لگ گئی تھی۔
’’میں ابھی آیا۔‘‘ وہ بولا۔
’’اوہ تو یہ کہو ناں کہ فاطمہ کے ساتھ ہو‘ اسی لئے میرا فون نہیں ریسیو کر رہے تھے۔‘‘ شانزے کے لفظ لفظ میں طنز کا نشتر تھا۔
’’شانزے ایسی کوئی بات نہیں‘ میں پھوپھو کو لے کر عدنان کے گھر آیا تھا۔ اس کی بیٹی حرا کی طبیعت خراب تھی‘ دیٹس اٹ اور فون کی مجھے آواز نہیں آئی۔‘‘ وہ صفائی دیتے ہوئے بولا۔
’’مائی فٹ۔‘‘ شانزے نے غصے میں ابلتے ہوئے یہ لفظ ادا کیا اور فون رکھ دیا۔ عادل نے بھی غصے میں اپنا ہاتھ دیوار پہ دے مارا۔
’’عادل یار کہاں ہو تم‘ آ جائو ناں۔‘‘ عدنان کی آواز اندر سے آئی تھی۔
’’آ رہا ہوں‘ آ رہا ہوں۔‘‘ وہ اپنے غصے کو کنٹرول کرتا اندر چلا گیا‘ اس کے بعد بھی وہ مسلسل شانزے کو ایس ایم ایس کرتا رہا‘ لیکن اس کا کوئی جواب نہ آیا۔ رات کو دیر تک وہ فون ملاتا رہا‘ لیکن اس نے ایک بھی کال پک نہیں کی‘ اور بالآخر اس نے موبائل آف کر دیا۔
وہ حقیقتاً بہت پریشان تھا کہ شانزے کو کس طرح ہینڈل کرے‘ نجانے کچھ لوگ اتنے مشکل کیوں ہوتے ہیں‘ اور ان کو سنبھالنا‘ ان کو سمجھانا‘ ان کے مزاج کا خیال رکھنا اتنا کٹھن کیونکر ہوتا ہے۔
یہ شاید اسی طرح ہے کہ دور سے چمکنے والے اور خوبصورت لگنے والے کانچ ہاتھ میں اٹھائو تو انگلیاں زخمی کر دیتے ہیں‘ ہاتھوں کو لہولہان کر دیتے ہیں۔
…٭٭٭…

’’ہاں تو کیا نام ہے تمہارا؟‘‘
’’جی میرا نام نازیہ ہے۔‘‘ دبلی پتلی اور سانولی عورت نے جواب دیا‘ جس کی گود میں دو اڑھائی سالہ کمزور سا بچہ تھا۔
’’دیکھو مجھے کام والی کی واقعی ضرورت ہے‘ میں ماں بننے والی ہوں اور ڈاکٹر نے مجھے مسلسل آرام کرنے کا کہا ہے اور کل میری ساس اور نند بھی آ رہی ہیں‘ کشمیر سے اور کھانے وغیرہ کا بھی کام ہو گا‘ تمہیں کھانا بنانا آتا ہے؟‘‘ روشین گویا کام والی کا انٹرویو لے رہی تھی۔
’’تھوڑا بہت تو آتا ہے جی‘ پہلے جس گھر میں کام کرتی تھی وہاں بناتی تھی کھانا۔‘‘ وہ بولی۔
’’وہاں سے کام کیوں چھوڑا؟‘‘ روشین نے پھر سوال کیا۔
’’یہ بچہ چھوٹا تھا‘ اکیلا گھر چھوڑ نہیں سکتی تھی‘ وہاں لے جاتی تو کام نہیں کر سکتی تھی اس لئے اس باجی نے خود چھٹی دے دی۔‘‘ نازیہ نے لاچاری سے کہا۔
’’کتنے بچے ہیں تمہارے؟‘‘
 
’جی پانچ ہیں تین بیٹیاں‘ دو بیٹے۔‘‘ نازیہ کے جواب پہ وہ حیرت میں مبتلا ہوگئی‘ مشکل سے سترہ اٹھارہ سالہ نظر آنے والی عورت کے پانچ بچے۔
’’کیا کرتا ہے تمہارا میاں؟‘‘
’’درزی تھا‘ اچھا خاصا کماتا تھا‘ لیکن بدبخت کو نشے کی لت لگ گئی۔ اب کچھ نہیں کرتا الٹا مجھ سے پیسے مانگ مانگ کے چھین چھین کے اپنا نشہ کرتا ہے‘ میں اور بچے بھوکوں مرتے رہتے ہیں۔ میں نے تو اپنی دس سالہ بچی کو بھی کسی کے گھر کام پہ کھڑا کر دیا ہے اور میں خود بھی نکل پڑی ہوں‘ محنت مزدوری کروں گی تو بچوں کو پالوں گی ناں۔‘‘ نازیہ اپنی غربت کی کہانی لے کر بیٹھ گئی۔ روشین کو بھی افسوس ہوا تھا‘ اور اس نے سوچا تھا کہ اللہ بھی وہیں اولاد جیسی نعمت سے نوازتا ہے‘ جہاں نہ خواہش ہوتی ہے‘ اور نہ ضرورت‘ کچھ لوگ تڑپتے رہتے ہیں‘ اور انہیں ایک بھی کونپل نہیں ملتی‘ اور کچھ کو بنا مانگے ہی گلشن مل جاتے ہیں‘ اور ان کو قدر بھی نہیں ہوتی۔
روشین نے ایک ٹھنڈی سانس باہر نکالی‘ اور بغور نازیہ کے اڑھائی سالہ بچے کو دیکھنے لگی۔
’’کل سے تم کام پہ آ جانا‘ دو ہزار دوں گی‘ کام زیادہ نہیں ہے‘ دو ملازم اور بھی ہیں‘ صرف کچن کا کام ہو گا‘ تمہارا اور تم بچوں کا کھانا ہمارے ہی گھر سے لے جانا اور کسی قسم کی فکر مت کرنا۔‘‘ روشین نے شدید جذبہ رحمدلی کے تحت کہا‘ اور نازیہ کی خوشی کی انتہا نہیں تھی۔
’’اللہ آپ کو بہت دے باجی! اللہ آپ کو بیٹے سے نوازے‘ اللہ اس کی عمر دراز کرے‘ آپ کو نظر بد سے بچائے۔‘‘ نازیہ کے منہ سے ڈھیروں ڈھیر دعائیں نکلنے لگیں اور روشین کے لئے سب سے خوبصورت دعا اپنے بچے سے متعلق تھی۔
ماں بنتے ہی نجانے ایسا کیا ہو جاتا ہے کہ ہر خواب‘ ہر رنگ‘ ہر روشنی اور ہر دعا فقط بچے سے تعلق رکھنے لگتی ہے۔
ہر خوشی بچے کی خوشی بن جاتی ہے‘ ہر مسکراہٹ اسی سے تعلق جوڑ لیتی ہے‘ نجانے کیسی کشش رکھی ہے مالک خیر و شر نے اولاد کے اندر۔
…٭٭٭…

’’ویری گڈ روشین! ماشاء اللہ سے آٹھواں ہفتہ بخیر و خوبی گزر گیا۔ بے بی کی گروتھ اپنے وقت کے مطابق بالکل ٹھیک ہے۔‘‘ ڈاکٹر ثانیہ اسے اسٹریچر پہ لٹائے الٹرا سائونڈ مشین سے اس کا اسکین کر رہی تھی۔
’’اب چلو آئو‘ کچھ ہدایات دینی ہیں تمہیں نیو مام‘‘ ثانیہ نے پیار سے کہا۔
’’الٹرا سائونڈ مشین سے یہ تصویر باہر نکل آتی ہے۔ آپ اسے لے جایئے گا اور گھر جا کے جب تک چاہیں دیکھئے گا۔‘‘ ثانیہ نے مشین کے اندر سے تصویر کا پرنٹ نکالا۔
’’ہو سکتا ہے تمہیں اپنے جسم کے کسی حصے پہ بوجھ کا احساس بھی ہو‘ لیکن یہ تمام احساس آپ نے برداشت کرنے ہیں‘ آگے اور مشکل سے مشکل مرحلے آئیں گے۔‘‘ ثانیہ نے ہمیشہ کی طرح محبت سے کہا‘ اور وہ کاغذ مع تصویر کے اس کے آگے لہرایا۔
’’جو چیز مجھے اللہ تعالیٰ نے عطا کی ہے ناں ثانیہ‘ اس کی خواہش میں نے برسوں سے کی تھی۔ بھیگی بھیگی لرزتی‘ دعائوں کا ثمر مجھے اب ملا ہے‘ اور اس کو پانے کے لئے چاہے مجھے کتنی ہی پتھر کی دیواریں کیوں نہ پھلانگنی پڑیں‘ کوئی ڈر نہیں۔ میں بس اپنے بچے کو بخیر و عافیت اس دنیا میں لانا چاہتی ہوں۔‘‘ روشین نے پرُعزم لہجے میں کہا۔
’’Thats the spirit عورتیں حمل کو بیماری سمجھتی ہیں‘ اور اسی وجہ سے حمل کا دورانیہ عذاب کی طرح کاٹتی ہیں‘ اور اپنے سے زیادہ بچے کو مشکل میں ڈالتی ہیں۔ خوراک بند کر لینا‘ دوائیوں کا استعمال نہ کرنا‘ دودھ اور دیگر اشیاء روک لینا‘ مترادف ہے بچے کو نقصان پہنچانے کے۔ اللہ سے دعا کیا کرو‘ باقی سب ٹھیک ہو جائے گا۔‘‘ ثانیہ کی مسکراہٹ روشین کے حوصلے بلند کر دیا کرتی تھی۔
’’اوکے باس‘ دوبارہ کب آئوں چیک اپ کے لئے؟‘‘
’’اپنی دوست سے ملنے تو کبھی بھی آ سکتی ہو‘ لیکن اپنے بے بی سے ملنے چار ہفتے بعد آنا۔‘‘ ثانیہ نے کہا۔
’’میں اپنے شوق جاری رکھ سکتی ہوں باغبانی اور پینٹنگ؟‘‘ روشین نے جاتے جاتے پوچھا۔
’’ضرور تم ہر وہ کام کر سکتی ہو‘ جو نارمل روٹین میں کرتی تھیں‘ تم بیمار نہیں ہو‘ بلکہ ہمیشہ سے کہیں زیادہ مضبوط ہو۔‘‘ ثانیہ کی محبت بھری باتوں نے گویا اس کی ہر پریشانی دور کر دی تھی۔
…٭٭٭…

’’ماہا… ماہا… سویٹ ہارٹ تم کہاں ہو؟‘‘ مسز گردیزی اس کے کمرے میں آ کے اسے تلاش کر رہی تھیں۔
’’ واش روم میں ہوں ممی۔‘‘ اس نے جواب دیا۔
’’جلدی باہر آئو بیٹا‘ تم سے کچھ کہنا ہے۔‘‘ ا س کی ممی نے کہا اور ماہا کے بیڈ سائیڈ ٹیبل سے میگزین اٹھا کے اس کی ورق گردانی کرنے لگیں۔
’’گڈ ایوننگ ممی ہائو آر یو۔‘‘ ڈھیلی ڈھالی گلابی شرٹ ٹرائوزر میں وہ واش روم سے نکلی‘ آنکھیں بتا رہی تھیں کہ بہت دیر تک سوئی رہی ہے۔ چہرہ نیند سے جاگنے کے بعد بہت تروتازہ اور خوبصورت لگ رہا تھا۔
’’میں ٹھیک ہوں ڈارلنگ‘ تم کیسی ہو۔‘‘ ممی کے چہرے پہ ہمیشہ کی طرح مسکراہٹ سجی تھی۔
’’تم سے ایک ضروری بات کرنے آئی تھی یہاں‘ آج شام کہیں جانا تو نہیں ہے ناں تم نے؟‘‘ راحلہ گردیزی نے پوچھا۔ وہ ٹو دی پوائنٹ بات کرنے کی عادی تھیں۔
’’نہیں ممی! مجھے تو کہیں نہیں جانا‘ پرسوں پریکٹیکل ہے سرجری کا اس کی تیاری کرنی تھی۔‘‘ وہ صاف گوئی سے بولی۔
’’بعد میں کر لینا تیاری‘ رات کو ڈنر پہ میرے ساتھ چلو‘ تمہارے ڈیڈی کے دوست باسط حفیظ نے ڈنر دیا ہے مرینا کلب میں۔ ان کا بیٹا یورپ سے پڑھ کر واپس آیا ہے۔‘‘ راحلہ نے اطلاع دی۔
’’آپ ہو آئیں ناں ممی! میرا جانا کیا ضروری ہے؟‘‘ وہ اس طرح کی سوسائٹی پارٹیز سے ہچکچاتی تھی‘ مصنوعیت کوٹ کوٹ کر بھری ہوتی ہے اس طرح کی پارٹیز میں‘ ہر کوئی اپنی شان و شوکت اور دولت سے دوسرے کو مرعوب کرتا ہے‘ مہنگے مہنگے کپڑے‘ جھلملاتی جیولری‘ اعلیٰ طرز کی جوتیاں‘ یورپ کے ٹرپ کی باتیں‘ اسٹاک ایکسچینج کے شیئرز اور سونے کی قیمت چڑھنے اترنے کے قصے‘ پڑوسیوں کی گاسپ اور طرح طرح کی من گھڑت باتیں‘ ماہا اس طرح کی پارٹیز کو فقط وقت کا ضیاع سمجھتی تھی۔ اس کے نزدیک کوئی اہمیت نہ تھی اس طرح کی گیدرنگز کی‘ اکثر مائیں اپنے بچوں کے لئے امیر کبیر گھرانوں سے رشتے لینے کے لئے بھی انہی پارٹیز میں ان کے ’’بر‘‘ ڈھونڈتی تھیں‘ اور اسی طرح کی گیدرنگز ہر طرح کے مقاصد کے لئے استعمال ہوتی تھیں۔
’’اوہ نو ڈارلنگ! کیوں تم اتنی ان سوشل ہو۔ کیا ہے تمہیں‘ اسی طرح کی پارٹیز میں لڑکیاں کتنا انجوائے کرتی ہیں‘ یہی تو دن ہیں تمہارے زندگی دیکھنے کے‘ گھر سے کالج ‘کالج سے گھر‘ ماریہ کے علاوہ کوئی تمہارا دوست ہی نہیں‘ چلو اٹھو میرے ساتھ بحث مت کرو اور کپڑے اچھے پہن لینا‘ بلکہ اس دن جو میں دیپک پروانی کی آئوٹ لیٹ سے ڈریسز لائی تھی‘ ان میں سے ایک پہن لینا۔‘‘ اب کے راحلہ نے ہمیشہ کی طرح تحکمانہ رویہ اختیار کیا۔
’’ممی! ضد کیوں کرتی ہیں آپ؟‘‘ وہ بسوری۔
’’ضد تم کرتی ہو میں نہیں‘ اگر انکار کیا تو مجھ سے بات مت کرنا۔‘‘ راحلہ نے بھی اپنے حربے آزمانے شروع کر دیئے۔
’’اوکے ٹھیک ہے‘ میں چلتی ہوں‘ لیکن وعدہ کریں کہ گیارہ بجے تک واپس آ جائیں گئے۔‘‘ ماہا نے مان لیا۔
’’آ جائیں گے ‘ آ جائیں گے اور اگر میرا موڈ نہیں ہوا تو تم ڈرائیور کے ساتھ واپس آ جانا۔‘‘ راحلہ نے مسکرا کر کہا۔
’’تھینکس ممی!‘‘ وہ بولی۔
’’تھینکس ٹو یو مائی سویٹی!‘‘ راحلہ نے محبت بھری آنکھوں سے اسے دیکھا اور اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئی۔
…٭٭٭…

اگر سانسیں مہک جائیں
اگر آنکھیں چھلک جائیں
اگر خوابوں کی خواہش ہو
اگر پھولوں کی بارش ہو
اگر ہنستے ہوئے رونے کو جی چاہے اکیلے میں
اگر کوئی دیکھ کر تم کو کہیں کھو جائے میلے میں
اگر تم پوچھنے جائو کہ بولو کیا حقیقت ہے
اور اس کا یہ جواب آئے ’’مجھے تو تم سے نفرت ہے‘‘
سمجھ لینا محبت ہے
سمجھ لینا محبت ہے
 
’’ادھر آئیں راحیل‘ وہ دیکھیں۔‘‘ پودوں کے پاس کھڑی روشین نے اسے اپنے پاس بلوایا‘ وہ آ گیا۔
’’وہ سامنے دیکھیں گلابی پھولوں کا وہ پودا‘ اسے میں نے ٹھیک اسی مہینے بویا تھا‘ جس مہینے ہمارے بچے نے میری کوکھ میں پہلی بار مجھے اپنی موجودگی کا احساس دلایا تھا‘ اب دیکھیں اس پودے نے اپنی پہلی کونپل زمین سے اٹھائی ہے اور آہستہ آہستہ یہ بڑھنا شروع ہو گیا ہے۔‘‘ روشین نے اس کی توجہ پودے کی طرف دلائی۔
’’ہمارا بچہ بھی اسی طرح بڑھ رہا ہے ناں راحیل‘ جس طرح اس پودے کی کونپلیں پھونٹیں گی‘ ہمارے بچے کے بازئو‘ ٹانگیں‘ آنکھیں اور خال و خدا بھریں گے‘ جس طرح اس پودے کے پتے نکلیں گے‘ ہمارے بچے میں بھی لمحہ بہ لمحہ نئی صفات آئیں گی اور ایک دن‘ ایک دن جب اس پودے پہ پھول لگیں گے تو اسی طرح ہمارا بچہ ہمارا پھول بھی ہماری گود میں ہو گا‘ ہے ناں راحیل؟‘‘ وہ فرطِ جذبات میں بول رہی تھی اور راحیل اس کی گہری تخیلاتی قوت ‘ اس کی ممتا اور اس کے جذبے سے لطف اندوز ہو رہا تھا۔ حیران ہو رہا تھا۔
’’روشین‘ میری طرف دیکھو۔‘‘ روشین نے راحیل کی طرف دیکھا۔ راحیل کی آنکھوں میں اس کے لئے خاص رنگ تھا۔
’’یہ میری روشین تو نہیں‘ یہ جذبات سے بوجھل‘ احساسات میں گندھی عورت ہے‘ یہ کون ہے؟ کیا میں اسے جانتا ہوں؟‘‘ وہ حیرت سے مسکرایا۔
’’یہ ایک ماں ہے راحیل! ماں‘ کائنات کا سب سے حسین نام‘ سب سے مقدس احساس‘ سب سے مادری صفت۔‘‘ یہ کہتے ہوئے روشین کی آنکھوں میں نمی کی اک چمک سی آئی تھی۔
’’ٹھیک کہتی ہو روشین‘ اولاد بذاتِ خود ماورائی کا اک احساس ہے‘ اک ایسا احساس کہ جس کے تحت یوں محسوس ہوتا ہو کہ ہم دنیا سے افضل ہیں‘ دنیا سے اچھے ہیں‘ یکایک اپنا آپ بہتر‘ بہتر بہت اجلا اور بہت پاک لگنے لگتا ہے۔ کچھ ایسے ہی احساس میرے بھی ہیں‘ کچھ اسی طرح کی خوشی میرے اندر بھی ہے روشی‘ میں اپنا بچہ پا کے خود کو جگ سے نرالا‘ سب سے زیادہ خوش قسمت سمجھنے لگا ہوں۔‘‘ راحیل نے کھل کے اپنے احساسات کا اظہار کیا۔ دونوں ہمقدم ہو کے گھر کے اندرونی حصے کی طرف چل رہے تھے۔
’’ہم اپنے بچے کا بھرپور طرح سے استقبال کریں گے‘ ہے ناں راحیل؟‘‘ وہ جملے کے اختتام پہ راحیل سے تائید کی منتظر تھی۔
’’جی ضرور‘ ایسا استقبال کہ وہ خود بھی کبھی نہ بھولے گا۔‘‘ وہ بولا۔
’’ہم اپنے بچے کو بے پناہ پیار دیں گے۔‘‘ وہ بولی۔
’’بے پناہ۔‘‘ راحیل نے تائید کی‘ دونوں باتیں کرتے کرتے گھر کے اندرونی حصے کی طرف چل دیئے۔
…٭٭٭…

کبھی یاد آئو تو اس طرح
کہ لہو کی ساری تمازتیں
تمہیں دھوپ دھوپ سمیٹ لیں
تمہیں رنگ رنگ نکھار دیں
تمہیں حرف حرف میں سوچ لیں
تمہیں دیکھنے کا جو شوق ہو
تو دیار ہجر کی تیرگی
کو مِہ کی نوک سے نوچ لیں
کبھی یاد آئو تو اس طرح
کہ دل منظر میں اتر سکو
کبھی کھل سکو شب وصل میں
کبھی خون دل میں سنور سکو
سر رہگذر جو ملو کبھی
نہ ٹھہر سکو‘ نہ گر سکو
میرا درد پھر سے غزل بنے
کبھی گنگنائو تو اس طرح
میرے زخم پھر سے گلاب ہوں
کبھی مسکرائو تو اس طرح
میری دھڑکنیں بھی لرز اٹھیں
کبھی چوٹ کھائو تو اس طرح
کبھی یاد آئو تو اس طرح
کبھی یاد آئو تو اس طرح…!
’’شانزے‘ پلیز یہ اپنا کام جلدی ختم کرو۔ مجھے تم سے کچھ ضروری باتیں کرنی ہیں۔‘‘ وہ اس کے جدید آرائش  تزئین والے دفتر میں بیٹھا تھا۔ وہ مختلف فائلز پہ دستخط کر رہی تھی‘ جبکہ آج وہ اس سے حتمی طورپہ کوئی فیصلہ چاہتا تھا۔
’’بولا ناں عادل ذرا دو منٹ صبر کرو‘ پتہ تو ہے تمہیں ہر سال نئی ہائرنگ کے سیزن میں کام کا لوڈ کتنا بڑھ جاتا ہے۔ آخر کار اتنی بڑی کمپنی ہے اس جاب کو بھی بہت ساری ریکوائرمنٹس ہیں۔‘‘ شانزے نے بہت الجھن میں اپنا جھکا ہوا سر اٹھا کے جواب دیا۔ وہ ہلکے فیروزی رنگ کے جدید کرُتے اور سفید ٹرائوزر میں ملبوس تھی۔ ٹرائوزر جو کہ اس کی پنڈلیوں کی سفید جلد کو اور واضح طور پر دکھا رہا تھا۔ سلیو لیس کرتا جو کہ جدت اور فیشن کا مظہر تھا۔ عدل کو اس کی یہ ڈریسنگ سخت ناپسند تھی‘ لیکن وہ اس کی خفگی سے اس قدر ڈرتا تھا کہ اسے کچھ کہہ ہی نہیں نہ پایا اور زہر لگتے تھے اسے وہ ورکز ہپی اون اور وزیٹر مرد جو شانزے کے کھلے بازوئوں اور سفید چمکتی ٹانگوں کو میلی آنکھوں سے دیکھتے تھے۔
نجانے فیشن کے نام پہ جسم کا دکھاوا کرنے والی لڑکیاں یہ کیوں بھول جاتی ہیں کہ اصل حسن اور اصل خوبصورتی وہ ہوتی ہے‘ جو پوشیدہ ہو‘ جو چیز نمائش عام کے طور پہ دکھائی جائے وہ اپنی وقعت کھو دیتی ہے۔
وہ اکثر دفاتر میں سڑکوں پہ آتی جاتی لڑکیوں کو ایسے کپڑوں میں ملبوس دیکھتا تھا کہ حیران رہ جاتا۔ ایسے کپڑے کا استعمال کرتیں کہ آرپار جس سے سب دکھائی دیتا۔ اس طرح کی شرٹ اور ٹرائوزر ہوتے‘ جو چھپانے کی ناکام کوشش کرتے اور بعض لڑکیاں اسے اپنے لئے باعث فخر سمجھتیں کہ لوگ انہیں مڑ مڑ کے دیکھتے ہیں۔ سکارف پہنیں مگر فقط بالوں کو چھپانے کی غرض سے‘ اسکارف پہننے اور وجود کو ڈھانپنے کا اصل مقصد جاتا رہتا۔
’’شانزے بعض دفعہ زندگی کے فیصلے کام سے اور کمپنی سے زیادہ اہم ہوتے ہیں‘ اور یہ کمپنی اکیلی تمہارے کندھوں پہ نہیں ہے‘ اس کا کچھ حصہ کچھ اور لوگ بھی بانٹتے ہیں۔‘‘ اس نے غصے میں ہی کہا تھا۔ فائل پہ تیزی سے چلتے شانزے کے ہاتھ رک گئے اور اس نے بہت شاکی نظروں سے عادل کو دیکھا۔
’’کچھ چیزیں کچھ انسانوں کی Priorities ہوتی ہیں‘ اہم اور ضروری ہوتی ہیں‘ میرے لئے ضروری ہے میرا کام‘ رہی بات زندگی کے فیصلوں کی تو میں نے خود کو مکمل اختیار دے رکھا ہے اپنی زندگی کے تمام فیصلوں کا‘ کوئی بھی دوسرا میرے اوپر کچھ بھی مسلط نہیں کر سکتا۔‘‘ شانزے نے ایک ایک لفظ پہ زور دے کے کہا۔
’’میں نے کوئی مسلط کرنے کی بات نہیں کی ہے شانزے‘ میں صرف شادی کرنا اور سیٹل ہونا چاہتا ہوں‘ اور تمہیں لے کر ہمیشہ کیلئے کینیڈا شفٹ ہونا چاہتا ہوں۔‘‘ عادل نے صاف بات کی۔
’’تمہیں شادی کی جلدی آخر کیا ہے عادل‘ کیا ہمارا رشتہ فقط شادی کا ہی محتاج ہے؟ کیا ہم شادی کے بغیر محبت نہیں کر سکتے؟ تمہیں سیٹل ہونے میں وقت ہے‘ میرے کچھ اور فیوچر پلانز ہیں‘ شادی تو ہو جائے گی‘ شادی ہونے میں کون سی دیر لگتی ہے؟‘‘ شانزے نے جھلاہٹ سے کہا۔
’’کیا یہ تمام پلانز ہم دونوں اکٹھے ہو کے پورے نہیں کر سکتے؟ ایک اکیلا ہوتا ہے اور دو گیارہ۔‘‘ عادل نے وضاحت کی۔
’’پلیز عادل! مجھے اپنے ان محاوروں میں الجھانے کی کوشش مت کرو‘ مجھے فی الحال بالکل بھی شادی نہیں کرنی۔‘‘ وہ زچ ہوئی۔
’’ٹھیک ہے مت کرو۔‘‘ وہ جھنجھلا کے کرسی سے اٹھ گیا‘ اور دروازے کی طرف جانے لگا۔ اسے روک کے اپنے لہجے اور بات کی معافی مانگنا شانزے کے نزدیک تضحیک تھی۔ لہٰذا اس نے اسے نہیں روکا‘ وہ جاتے جاتے اسے دیکھنے کے لئے مڑا۔
 
’’ایک ریکیوئسٹ ہے مانو گی؟‘‘ وہ بولا۔
’’بولو۔‘‘ وہ گردن اٹھا کے اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولی۔
’’کپڑے ایسے پہنا کرو جو کہ جسم کو چھپا سکیں‘ مجھے اچھا نہیں لگتا جب لوگ مڑ مڑ کے تمہارے جسم کو دیکھتے ہیں۔‘‘ عادل یہ کہہ کر رکا نہیں اور آفس کا گلاس ڈور پھلانگ کے چلا گیا‘ اندر شانزے غصے میں کلبلانے لگی۔
’’ہو آر یو ٹو سے دس‘ ہوتے کون ہو تم مجھ پر اپنے اصول ٹھونکنے والے Narrow minded پرانے خیالات کے قدیم مرد‘ مجھے شادی وادی نہیں کرنی تم سے‘ آئی ڈونٹ لائیک یو۔‘‘ وہ مسلسل عادل کو کوستی رہی۔
…٭٭٭…

’’وہ مجھ سے شادی نہیں کرنا چاہتی۔‘‘ بہت افسردہ اور بجھے لہجے میں اس نے فاطمہ سے کہا تھا‘ اور فاطمہ یہ جملہ سن کر بے اختیار ہنس دی۔
’’تم ہنس کیوں رہی ہو؟ سچ اس نے خود کہا ہے کہ وہ مجھ سے شادی نہیں کرنا چاہتی۔‘‘ فاطمہ نے اپنی ہنسی کو کنٹرول کیا۔
’’لیکن… لیکن اس نے ایسا کیوں کہا؟‘‘ وہ خود کو سنبھالتے ہوئے بولی۔
’’مجھے کیا پتہ اس نے ایسا کیوں کہا‘ بس میں نے اس سے پوچھا‘ اور اس نے صاف انکار کر دیا۔‘‘ عادل کا لہجہ پھر افسردہ ہو گیا۔
’’کیا وہ تم سے محبت کرتی ہے؟‘‘ فاطمہ نے اب بھی محظوظ ہونے والے لہجے میں پوچھا۔
’’کیا مطلب ہے فاطمہ؟ آف کورس کرتی ہے‘ کم از کم مجھے تو یہ لگتا ہے۔‘‘ وہ جھنجھلایا۔
’’تو پھر شادی کیوں نہیں کرنا چاہتی تم سے؟ کیا مسئلہ ہے تم میں؟ ماشاء اللہ سے خوبصورت ہو‘ برسر روزگار ہو اور ذرا سے بیوقوف بھی‘ تمہاری بیوی تو تمہارے ساتھ بہت خوش و خرم زندگی گزارے گی۔‘‘ فاطمہ نے اسے چھیڑا۔
’’پلیز فاطمہ! اسے راضی کرو‘ اسے کہو کہ میں جلد از جلد سیٹل ہونا چاہتا ہوں‘ مجھے فیملی کی ضرورت ہے‘ میں اتنے برس اکیلا رہا ہوں‘ اب میں اپنی تنہائی دور کرنا چاہتا ہوں‘ عدنان کی طرح میں بھی بچوں کا باپ بننا چاہتا ہوں۔‘‘ وہ اسے سمجھاتے ہوئے بولا۔
’’دیکھو عادل! اگر اسے تم راضی نہیں کر پا رہے‘ تو میں کیسے کر پائوں گی‘ اور اگر وہ شادی نہیں کرنا چاہتی تو تم منگنی کر لو‘ اسے کچھ اور وقت دے دو‘ اور اگر فرض کرو وہ منگنی کے لئے بھی راضی نہیں ہوتی‘ تو اسے اس کے حال پہ چھوڑ دو‘ تم ہائر سٹڈیز کے لئے یا بہتر روزگار کے لئے کینیڈا جانا چاہتے ہو تو تم چلے جائو‘ اگر یہ لڑکی واقعی تم سے محبت کرتی ہو گی‘ تو وہ ضرور تمہارا انتظار کرے گی‘ اور تمہیں واپس بلائے گی۔ اس کے سامنے شادی اور محبت کی بھیک مت مانگو‘  اس طرح سے وہ سمجھتی ہے کہ شاید تم بھی ان روایتی مردوں میں سے ہو‘ جو جس عورت کو پسند کریں اس پہ انگلی رکھ دیتے ہیں‘ اور وہ اس کی ہو جاتی ہے۔‘‘ فاطمہ نے ایک دوستانہ رائے اسے دی۔
’’شاید تم ٹھیک کہتی ہو فاطمہ! یوں بھی شانزے کو شادی سے اس لئے نفرت ہے کیونکہ وہ سوچتی ہے کہ مرد عورت کو ہمیشہ استعمال کرتا ہے‘ اس کی ذات کو اس کی خواہشات کو اپنے پائوں تلے روند دیتا ہے‘ اور اسی لئے وہ شادی سے ڈرتی ہے‘ وہ کبھی بھی ایک روایتی اور عورت نہیں بننا چاہتی۔‘‘ عادل نے کہا۔ فاطمہ اسے بغور سن رہی تھی۔
’’ویسے عادل ! کیا واقعی یہی لڑکی تمہاری شریکِ حیات کے لئے آخری انتخاب ہے؟ جتنا میں تمہیں جانتی ہوں اندر سے تم بہت روایتی ہو‘ عدنان سے بھی زیادہ‘ اور یہ لڑکی ان روایتوں کے بالکل منافی اور مختلف‘ کیا واقعی تم اس کے ساتھ خوش رہ پائو گے؟‘‘ فاطمہ نے بہت اپنائیت سے پوچھا۔
’’فاطمہ! مجھے بس یہ پتہ ہے کہ میں اس لڑکی سے محبت کرتا ہوں‘ بہت زیادہ اور سوائے اس لڑکی کے میرا دل بھی کسی کے لئے بھی نہیں دھڑکا‘ اور اس لڑکی کو میں کبھی بھی کھونا نہیں چاہتا‘ بس میں یہ جانتا ہوں۔‘‘ وہ اعترافاً بولا۔
’’تو ٹھیک ہے عادل! اپنی محبت پہ اپنا بھروسہ قائم رکھو اور اس لڑکی کو احساس دلائو کہ تم اس سے کتنی گہری اور کتنی سچی محبت کرتے ہو‘ آئی ایم شیور کہ وہ ضرور مان جائے گی۔‘‘ وہ دونوں فاطمہ اور عدنان کے گھر کے لان میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے‘ اچانک گھر کا گیٹ کھلا اور عدنان کی گاڑی اندر آئی۔
’’لیں جی! آپ کے شوہر نامدار آ گئے‘ اب آپ ان میں اس قدر مصروف ہو جائیں گی کہ ہمیں بھول جائیں گی۔‘‘ عادل نے کہا۔
’’عادل تمہیں یاد ہے ناں؟ تم نے ایڈی سے بات کرنی ہے‘ اس کے بدلتے رویے کے متعلق۔‘‘ فاطمہ نے اسے یاد دلایا۔
’’جی ہاں اور آپ نے بھی شانزے کو منانا ہے‘ منگنی کے لئے‘ میں اس سے کوئی نہ کوئی رشتہ جوڑنا چاہتا ہوں۔ بے نام رشتے مجھے پسند نہیں۔‘‘ عادل نے مسکرا کے کہا۔
’’اوکے بابا ٹھیک ہے‘ اب چلو ایڈی کو ویلکم کرتے ہیں۔ تم اسے بیڈ روم میں لے جائو‘ میں اچھی سی چائے بنا کے آتی ہوں۔‘‘ فاطمہ کرسی سے اٹھی اور اپنے محبوب شوہر کے استقبال کے لئے آگے بڑھی۔
عادل کچھ دیر وہیں بیٹھا رہا‘ وہ جانتا تھا کہ فاطمہ اور عدنان کتنی محبت کرتے ہیں ایک دوسرے سے اور دونوں کم از کم کچھ لمحوں میں اکیلے ایک دوسرے کا سامنا کرنا پسند کرتے ہیں‘ اور خوش آمدید کا یہ لمحہ بھی اپنی لمحوں میں سے ایک ہے اور عادل کو اپنے اور  شانزے کے درمیان بھی ایسی ہی محبت چاہئے تھی۔
…٭٭٭…

’’یار اتنی دیر کر دیتے ہو تم گھر آنے میں‘ دو گھنٹے سے بیٹھا تمہارا انتظار کر رہا تھا۔‘‘ عادل نے عدنان سے کہا۔ وہ کپڑے تبدیل کر کے واش روم سے نکلا‘ بیڈ پہ عادل آڑھا ترچھا بیٹھا ٹی وی کے چینل تبدیل کر رہا تھا۔
’’دیر ہو گئی‘ دفتر میں کچھ کام تھے‘ جنہیں آج ہی ختم کرنا چاہتا تھا۔‘‘ وہ مختصراً بولا۔ عادل نے اس کے چہرے کے بڑھے ہوئے شیو کو بغور دیکھا۔
’’یہ تجھے کیا ہوا ہے‘ داڑھی کیوں اتنی بڑھا رکھی ہے؟‘‘ عادل کے سوال پہ وہ خاموش رہا۔
’’کہیں یہ اسی تبدیلی کا حصہ تو نہیں‘ جس خدا سے‘ ایک واقعے نے مجھے بہت توڑ دیا ہے۔‘‘ عدنان نے کہا۔
’’کون سے واقعہ نے؟‘‘
’’پچھلے دنوں میرے ایک کولیگ اسد کا روڈ ایکسیڈنٹ ہو گیا‘ اور وہ اس میں جاں بحق ہو گیا‘ اس کی عمر صرف چھبیس سال تھی‘ بہت خوبصورت نوجوان تھا۔ پچھلی سردیوں میں اس کی شادی ہوئی تھی‘ اور ایک ماہ پہلے بچے کے لئے بہت کچھ پلان کیا تھا‘ کیا کیا خواب دیکھے تھے‘ بیٹے کو ایسے پڑھائوں گا‘ یوں بڑا آدمی بنائوں گا‘ اسے اس طرح کی زندگی دوں گا‘ اسے یہاں گھمائوں گا‘ وہ شہر دکھائوں گا‘ وہ ہمیشہ مستقبل کے متعلق سوچتا تھا‘ اور دیکھو‘ وقت نے اسے مہلت ہی نہ دی‘ مستقبل میں قدم رکھنے کی اور پچھلے ہفتے موٹرسائیکل پہ گھر سے دفتر آتے ہوئے اس کی جان چلی گئی۔‘‘ عدنا ن نے یہ کہہ کر لمبی سانس لی۔
’’یار عادل! میں یہ سوچتا ہوں کہ اگر موت اتنی بڑی حقیقت ہے‘ تو پھر یہ زندگی کا کاروبار کس لئے؟ اگر ایک دن اسی طرح خاموشی سے اٹھ جانا ہے‘ تو پھر یہ روزگار کے یہ جھگڑے‘ یہ پریشانیاں‘ یہ پیسے کی دوڑ‘ اس سب سے کیا حاصل؟ ہم لوگ… ہم لوگ اس طرح جیتے ہیں کہ جیسے کبھی مرنا ہی نہیں‘ اور پھر اس طرح مر جاتے ہیں کہ جیسے کبھی زندہ ہی نہ تھے۔‘‘ عادل اس کی باتیں بڑے غور سے سن رہا تھا۔
’’یار زندگی اور موت اللہ پاک کے ہاتھ میں ہوتی ہے‘ اور موت بذاتِ خود زندگی کی حفاظت کرتی ہے۔ اس وقت تک کہ جب تک موت کا اپنا وقت نہیں آتا‘ ہماری پیدائش سے قبل ہی ہماری موت کا تعین ہو چکا ہوتا ہے۔‘‘ عادل نے اسے سمجھایا۔
’’ایسا نہیں ہے عادل کہ مجھے زندگی سے محبت نہیں رہی‘ اور میں فقط موت کا منتظر ہوں‘ دنیا بہت خوبصورت ہے یار زندگی بہت حسین ہے‘ لیکن میں اس حقیقت کو نہیں بھولنا چاہ رہا عادل‘ جس کا نام موت ہے اور جسے آج نہیں تو کل‘ کل نہیں تو پرسوں جوانی میں نہیں تو بڑھاپے میں ایک نہ ایک دن کسی نہ کسی پل آنا ہے‘ ضرور آنا ہے۔ جس وقت اس کا جنازہ پڑھ کے اسے دفنایا گیا تو مجھے لگا میرا جنازہ پڑھ کے مجھے مٹی میں دبا دیا گیا ہو‘ اور جس وقت میں قبرستان سے گھر واپس آیا‘ مجھے لگا کہ جیسے اللہ نے مجھے ایک نئی زندگی دی ہے۔ اپنے آپ کو راہ راست پہ لانے کا ایک اور موقع دیا ہے۔‘‘ عادل اس کی باتیں محسوس کرنے والی آنکھوں اور دل سے سن رہا تھا۔
’’کیا میں غلط ہوں عادل؟ بول میرے دوست کیا میں غلط ہوں؟‘‘ عدنان نے پوچھا۔ عادل کی آنکھوں میں اداسی اتر آئی تھی‘ اس نے نفی میں گردن ہلاتے ہوئے اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھا۔
’’تو صحیح ہے میرے یار! تجھے اللہ پاک نے سیدھی راہ دکھا دی ہے۔‘‘ عادل نے مسکرا کے کہا۔
’’تجھ سے ایک وعدہ لوں عادل! کرو گے میرے ساتھ؟‘‘ عدنان نے بہت مان سے پوچھا۔
’’میں نے کبھی انکار کیا ہے؟‘‘ عادل نے کہا۔
’’اگر مجھے کبھی کچھ ہو گیا ‘ تو تم فاطمہ اور میرے بچوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑو گے‘ وعدہ کرو میرے ساتھ۔‘‘ وہ ہاتھ پھیلائے وعدے کا منتظر تھا۔
’’عدنان پلیز ایسی باتیں مت کرو‘ اللہ تمہیں تمہاری فیملی کے ساتھ خوش و خرم اور آباد رکھے‘ مجھے دکھ ہو رہا ہے ایسا مت کہو۔‘‘ عادل نے کہا۔
’’وعدہ کرو عادل! میں بہت بے فکر ہو جائوں گا تمہارے اس وعدے کے بعد‘ وعدہ کرو۔‘‘ عدنان کے بہت اصرار پہ عادل نے اس کے ہاتھ پہ ہاتھ رکھ دیا۔


’’بہت شکریہ دوست! بہت شکریہ‘ تم دوست نہیں انعام ہو میری زندگی کا۔‘‘ عدنان نے مسکرا کے کہا۔
’’اب تم پلیز فاطمہ کے سامنے ایسا کچھ مت کیا کرو‘ تمہیں پتہ ہے وہ تمہارے پیار میں پاگل ہے‘ اوّل دن سے حالانکہ تم اس لائق تو نہیں‘ لیکن وہ پھر بھی پاگل ہے۔‘‘ عادل نے اسے چھیڑا۔
دروازے کے باہر ہاتھ میں چائے کی ٹرے تھامے کھڑی فاطمہ کی آنکھوں میں آنسو تھے‘ وہ عدنان کی ساری باتیں سن چکی تھی۔
…٭٭٭…

’’عدنان! یہاں آئو۔‘‘ بیڈ کے ایک کونے پہ لیٹے ہوئے عدنان کو اس نے آواز دی‘ وہ متوجہ ہوا اور اس کے پاس آیا۔ فاطمہ نے بہت محبت سے اس کا ہاتھ تھام لیا۔
’’کیا ہوا؟‘‘ عدنان نے پوچھا۔
وہ اس کے کندھے سے لگ گئی اور زار و قطار آنسو بہانے لگی۔
’’ہوا کیا‘ کیوں ر و رہی ہو تم اتنا؟‘‘ عدنان نے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیر کے کہا۔
’’آپ کو کیا ہو گیا ہے عدنان‘ آپ کیوں عادل سے ایسی باتیں کر رہے تھے؟‘‘ وہ روتے ہوئے بولی۔
’’کیسی باتیں فاطمہ؟ وہ میرا دوست ہے‘ سو طرح کی باتیں ہوتی ہیں اس کے ساتھ ان باتوں کو تمہیں اتنا دل پہ لینے کی ضرورت کیا ہے؟‘‘ عدنان نے نرمی سے کہا۔
’’مجھے بہت ڈر لگتا ہے آپ کی ایسی باتوں سے‘ ہم نے ساتھ جینے مرنے کی قسمیں کھائی ہیں‘ ہمیں اکٹھا رہنا اور اپنے بچوں کو اکٹھے بڑا کرنا ہے‘ میں آپ کے بنا جینے کا سوچ بھی نہیں سکتی۔‘‘فاطمہ نے اور مضبوطی سے اس کے ہاتھ کو تھام لیا۔
’’فاطمہ! میں کہیں نہیں جا رہا تمہیں چھوڑ کر‘ میں تو عادل کو صرف یہ سمجھا رہا تھا کہ میرے اندر کی یہ تبدیلی غلط نہیں ہے‘ میں تو دنیا کے ساتھ ساتھ دین کو بھی چلانے کی کوشش کر رہا ہوں‘ میں بے شک گنہگار ہوں‘ لیکن میں اپنے گناہوں کے بوجھ تلے دبنا نہیں چاہتا۔ اس طرح سے میں اپنے گناہوں میں اور اضافہ کروں گا‘ مجھے اس راہ راست پہ قدم مضبوط کرنے دو فاطمہ۔ مجھے اس ذات سے رشتہ مضبوط کرنے دو‘ جس ذات نے مجھے پیدا کیا ہے‘ مجھے وہ سب عطا کیا ہے‘ جس کا میرے لئے شمار بھی ممکن نہیں‘ اور اگر میں اپنی اس مختصر زندگی میں اس ذات پاک کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں‘ اگر اس سے دوستی کا رشتہ استوار کرنا چاہتا ہوں‘ اگر اپنے گزشتہ گناہوں کی تلافی کرنا چاہتا ہوں‘ تو کیا یہ غلط ہے۔ فاطمہ میرے لئے اس کا یہ احسان ہی بہت ہے کہ میں مسلمان پیدا ہوا‘ اور اگر اس احسان کے جواب میں‘ میں اس کے حضور سجدے میں جھکتا ہوں‘ تو کیا غلط ہے؟‘‘ عدنان کا لہجہ اور اس کی زبان دونوں الگ تھے‘ فاطمہ کے آنسو تھم گئے۔
’’آپ کا راستہ بالکل صحیح ہے عدنان‘ مجھے معاف کیجئے گا کہ میں آپ کے اس نیک کام میں مخل ہوئی‘ دراصل کسی قریبی شخص میں اس طرح اچانک تبدیلی آئے تو لمحہ بھر پریشانی تو ہوتی ہے‘ آپ بالکل ٹھیک کر رہے ہیں عدنان۔ آپ کا راستہ اور آپ کا ارادہ دونوں نیک ہیں۔‘‘ فاطمہ نے اپنی آنکھیں پونچھ کے کہا۔
’’تو کیا تم میرا ساتھ دو گی؟‘‘
’’مجھے تو حکم ہے میرے رب کی طرف سے۔ آپ کا ہر قدم پہ ساتھ نبھانے کا‘ میں تو آپ کا لباس ہوں اور مجھے حق ہے کہ میں ہر اس موڑ پہ آپ کا ساتھ دوں‘ جو موڑ ہمیں کامیابی کی طرف لے جائے۔‘‘ فاطمہ نے مسکرا کے کہا۔
’’تو چلو نیک کام کی ابتداء ابھی‘ اسی وقت سے کی جائے۔ نماز عشاء کے لئے میں مسجد جاتا ہوں‘ اور تم گھر پہ پڑھو۔‘‘ عدنان نے کہا۔
’’میں گھر پہ اکیلی نہیں پڑھوں گی‘ بچوں کو ساتھ رکھوں گی‘ اور ہمیشہ میں اور بچے نماز پنجگانہ کی پابندی کریں گے۔‘‘ فاطمہ کے لہجے میں اک روشنی‘ اک رمق تھی۔ عدنان خوشی سے مسکرا دیا۔
…٭٭٭…
دل پہ اسے بھی عذابوں کو اترتے دیکھا
ہم نے چپ چاپ اسے خود سے بچھڑتے دیکھا
اس کو سوچا تو ہر اک سوچ میں خوشبو اتری
اس کو لکھا تو ہر اک لفظ مہکتے دیکھا
یاد آ جائے تو قابو نہیں رہتا دل پر
 

ورنہ دنیا نے بھی ہم کو ہے تڑپتے دیکھا
اس کی صورت کو فقط آنکھ نہیں ترسی ہے
راستوں کو بھی اس کی یاد میں روتے دیکھا
ہم محبت کے لئے آج بھی دیوانے ہیں
یہ الگ بات ہے اس نے نہیں مڑ کر دیکھا

’’ڈاکٹر ذوالفقار! ڈاکٹر ذوالفقار!‘‘ وہ کاریڈور میں اس کے پیچھے دوڑتی ہوئی آئی تھی۔ ڈاکٹر ذوالفقار جو تھرڈ ایئر کی کلاس لے کر نکلا تھا‘ اور کامن روم کی طرف جا رہا تھا‘ اس کی آواز پہ پلٹے‘ یہ ماہا حسن تھی‘ جو تیز رفتاری سے دوڑتی اس تک آ رہی تھی۔ ڈاکٹر ذوالفقار ٹھہر گئے‘ ماہا نے بھی اپنی رفتار کم کر دی اور ہلکے ہلکے قدم اٹھاتی ان تک آنے لگی۔
فان کلر کی شرٹ‘ میرون ٹائی‘ سیاہ رنگ کی سلک کی فال والی پینٹ‘ ٹائی کے اوپر گولڈن ٹائی پن‘ سنہری فریم والا چشمہ‘ سر کے بال آدھے سفید آدھے سیاہ‘ وجیہہ چہرہ اور پرُکشش شخصیت‘ ماہا حسن دیوانوں کی طرح انہیں دیکھ کے ان کی طرف بڑھ رہی تھی۔
’’ڈاکٹر ذوالفقار! آئی ایم سوری سر‘ لیکن میں آپ کا آج کا لیکچر اٹینڈ نہیں کر پائی‘ اور پرسوں کے ٹیسٹ کے لئے آج کا لیکچر سننا بہت ضروری تھا‘ گو کہ غلطی میری ہے میں یونیورسٹی لیٹ پہنچی‘ لیکن سر اگر آپ برا نہ مانیں تو پلیز مجھے لیکچر کے کچھ پوائنٹس بتا دیں۔‘‘ ماہا نے بڑی رفتار سے اپنا مدعا بیان کیا۔ ڈاکٹر ذوالفقار مسکرا دیئے۔
’’اگر غلطی مان لی ہے‘ تو پھر سزا بھی بھگتو۔ بھول جائو آج کے لیکچر کو۔‘‘ وہ بولے۔
’’پلیز سر ایسا مت کہیں‘ کیا آپ چاہیں گے کہ سیکنڈ ایئر کی سب سے اچھی سٹوڈنٹ پرسوں کے ٹیسٹ میں فیل ہو جائے؟‘‘ وہ بڑی معصومیت سے بولی۔
’’میں لائبریری جا رہا ہوں لنچ کرنے کے بعد تم وہاں جا کے میرا انتظار کرو۔ نوٹ بک اور فائل لازمی طور پر پہ لے جانا‘ میں آتا ہوں ابھی۔‘‘ ڈاکٹر ذالفقار نے اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھ کر اپنے مخصوص انداز میں کہا‘ اور کامن روم کی طرف بڑھ گئے‘ اور وہ مسکرا کے رہ گئی‘ خوشی اس کے انگ انگ سے پھوٹنے لگی‘ ذوالفقار کا موہوم سا لمس اس کی رُوم رُوم میں اک بھرپور لذت جگا گیا‘ محبت کی تتلی نے اپنے دونوں پر پھیلا لئے اور اس کے تمام رنگ جابجا بکھر گئے۔
کوئی شام ہو‘ جسے شام کہنے میں
شب کا کوئی نشان نہ ہو
کوئی چھائوں ہو‘ جسے چھائوں کہنے میں
دوپہر کا گماں نہ ہو
کوئی وصل ہو‘ جسے وصل کہنے میں
ہجر رت کا دھواں نہ ہو
کوئی لفظ ہو‘ جسے لکھنے پڑھنے کی چاہ میں
کبھی ایک لمحہ گراں نہ ہو
لائبریری میں ڈاکٹر ذوالفقار احمد کے عین سامنے بیٹھی تھی۔ وہ صبح کلاس میں دیا لیکچر اسے ازسرِ نو سمجھا رہے تھے‘ اور وہ ٹھوڑی پہ ہاتھ رکھے پوری آنکھیں کھولے بظاہر انہیں سن رہی تھی‘ لیکن دراصل وہ ان کے چہرے‘ ان کی آواز‘ اور ان کی ذات میں کھو گئی تھی۔ اس کے دل کی پوری کائنات کے اوپر فقط ذوالفقار کا چہرہ چھایا تھا‘ اور وہ اس چہرے کی سبھی ادائوں میں اپنا آپ کھو رہی تھی‘ پل پل رنگ بدلتا چہرہ‘ دل کو بے کل کرتا چہرہ‘ ایسا چہرہ کہ جس میں بظاہر کوئی کشش نہ تھی‘ بھاری بڑی بڑی آنکھوں کے سرخ ڈورے‘ یوں لگتا تھا کہ وہ صدیوں سے سوئے نہ تھے‘ یا پھر مسلسل شراب نوشی نے اپنی رنگت اور مدہوشی ان آنکھوں کو سونپ دی تھی‘ اور چہرہ ایسا کہ جو ہمیشہ سپاٹ اور بے تاثر رہتا تھا۔ وہ چہرہ‘ جس نے اپنے جذبات اور اپنے احساسات مٹھیوں میں جکڑ رکھے تھے‘ اور دل پہ ایسے قفل چڑھائے تھے کہ جن کا کھلنا ممکن نہ تھا‘ اور اپنے ایسے ایسے بت تراشے تھے کہ جن کا ٹوٹنا ناممکن‘ لیکن عورت تو بت شکن ہوتی ہے۔
ہاں عورت بت شکن ہوتی ہے۔ وہ ایسے ایسے بت بھی اپنی محبت اور اپنے حسن سے توڑنا جانتی ہے‘ جن کا ٹوٹنا بھی ممکن نہ ہو‘ اور اگر وہ بت نہ ٹوٹے تو یہ عورت کی ضد بن جاتی ہے۔ اس بت کو پاش پاش کرنا‘


No comments:

Post a Comment

Post a Comment

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...