Nazim's poetry

Nazim's poetry

Friday, August 10, 2018

Halki Si Lakeer

تیرے ہونٹوں پہ تبسم کی وہ ہلکی سی لکیر
میرے تخئیل میں رہ رہ کے جھلک اٹھتی ہے
یوں اچانک ترے عارض کا خیال آتا ہے
جیسے ظلمت میں کوئی شمع بھڑک اٹھتی ہے
تیرے پیراہنِ رنگیں کی جنوں خیز مہک
خواب بن بن کے مرے ذہن میں لہراتی ہے

رات کی سرد خموشی میں ہر اک جھونکے سے
تیرے انفاس، ترے جسم کی آنچ آتی ہے
میں سلگتے ہوئے رازوں کو عیاں تو کر دوں
لیکن اِن رازوں کی تشہیر سے جی ڈرتا ہے
رات کے خواب اجالے میں بیاں تو کر دوں
اِن حسیں خوابوں کی تعبیر سے جی ڈرتا ہے

تیری سانسوں کی تھکن، تیری نگاہوں کا سکوت
در حقیقت کوئی رنگیں شرارت ہی نہ ہو
میں جسے پیار کا انداز سمجھ بیٹھا ہوں
وہ تبسم، وہ تکلم، تری عادت ہی نہ ہو

سوچتا ہوں کہ تجھے مل کے میں جس سوچ میں ہوں
پہلے اِس سوچ کا مقسوم سمجھ لوں تو کہوں
میں ترے شہر میں انجان ہوں، پردیسی ہوں
تیرے الطاف کا مفہوم سمجھ لوں تو کہوں

کہیں ایسا نہ ہو پاؤں مرے تھرا جائیں
اور تری مرمریں بانہوں کا سہارا نہ ملے
اشک بہتے رہیں، خاموش سیہ راتوں میں
اور ترے ریشمی آنچل کا کنارا نہ ملے

No comments:

Post a Comment

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...