Nazim's poetry

Nazim's poetry

Saturday, August 11, 2018

Zindagi Ke Melay Mein

زندگی کے میلے میں،
خواہشوں کے ریلے میں،
تم سے کیا کہیں جاناں۔۔؟
اس قدر جھمیلے میں۔۔
وقت کی روانی ہے،
بخت کی گرانی ہے،
سخت بےزمینی ہے،
سخت لامکانی ہے۔۔
ہجر کے سمندر میں،
تخت اور تختے کی،
ایک ہی کہانی ہے۔۔
تم کو جو سنانی ہے۔۔
بات گو ذرا سی ہے۔۔
بات عمر بھر کی ہے۔۔
عمر بھر کی باتیں،
کب دو گھڑی میں ہوتی ہیں۔۔؟
درد کے سمندر میں،
ان گنت جذیرے ہیں۔۔
بےشمار موتی ہیں۔۔
آنکھ کے درچے میں،
تم نے جو سجایا تھا۔۔
بات اُس دیئے کی ہے۔۔
بات اُس گلے کی ہے۔۔
جو لہو کی خلوت میں،
چور بن کے آتا ہے۔۔
لفظ کی فصیلوں پہ،
ٹوٹ ٹوٹ جاتا ہے۔۔
زندگی سے لمبی ہے۔۔
بات رتجگے کی ہے۔۔
راستے میں کیسے ہو۔۔؟
بات تخلئے کی ہے۔۔
تخلئے کی باتوں میں،
گفتگو اضافی ہے۔۔
پیار کرنے والوں کو،
اک نگاہ کافی ہے۔۔
ہوسکے تو سُن جاؤ۔۔
ایک دن اکیلے میں۔۔
تم سے کیا کہیں جاناں۔۔؟؟؟؟
اس قدر جھمیلے میں۔۔!!!

No comments:

Post a Comment

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...