زندگی کے میلے میں،
خواہشوں کے ریلے میں،
تم سے کیا کہیں جاناں۔۔؟
اس قدر جھمیلے میں۔۔
وقت کی روانی ہے،
بخت کی گرانی ہے،
سخت بےزمینی ہے،
سخت لامکانی ہے۔۔
ہجر کے سمندر میں،
تخت اور تختے کی،
ایک ہی کہانی ہے۔۔
تم کو جو سنانی ہے۔۔
بات گو ذرا سی ہے۔۔
بات عمر بھر کی ہے۔۔
عمر بھر کی باتیں،
کب دو گھڑی میں ہوتی ہیں۔۔؟
درد کے سمندر میں،
ان گنت جذیرے ہیں۔۔
بےشمار موتی ہیں۔۔
آنکھ کے درچے میں،
تم نے جو سجایا تھا۔۔
بات اُس دیئے کی ہے۔۔
بات اُس گلے کی ہے۔۔
جو لہو کی خلوت میں،
چور بن کے آتا ہے۔۔
لفظ کی فصیلوں پہ،
ٹوٹ ٹوٹ جاتا ہے۔۔
زندگی سے لمبی ہے۔۔
بات رتجگے کی ہے۔۔
راستے میں کیسے ہو۔۔؟
بات تخلئے کی ہے۔۔
تخلئے کی باتوں میں،
گفتگو اضافی ہے۔۔
پیار کرنے والوں کو،
اک نگاہ کافی ہے۔۔
ہوسکے تو سُن جاؤ۔۔
ایک دن اکیلے میں۔۔
تم سے کیا کہیں جاناں۔۔؟؟؟؟
اس قدر جھمیلے میں۔۔!!!
Nazim's poetry
Saturday, August 11, 2018
Zindagi Ke Melay Mein
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment