Nazim's poetry

Nazim's poetry

Wednesday, August 1, 2018

Wohi ek ajnabi

فریبِ ذات سے نکلو ، جہاں کے سانحے دیکھو
حقیقت منکشف ھو گی ، کبھی تو آئینے دیکھو

ھمیں سمجھو نہ خوش اتنا ، لبوں کی مسکراھٹ سے
ھماری آنکھ میں پھیلے ، ھزاروں حادثے دیکھو

تھکے ھارے سے بیٹھے تھے ، مگر تیری صدا سُن کر
شکستہ پا چلے آئے ھیں ، ھمارے حوصلے دیکھو

لکھا ھے وقت نے یہ بھی ، عجب اپنے مقدر میں
پلٹنا ھی نہیں جس کو ، اُسی کے راستے دیکھو

وھی اِک اَجنبی جس سے ، تعلق سَرسری سا تھا
ھمارے دل میں ھوتے ھیں ، اُسی کے تذکرے دیکھو

No comments:

Post a Comment

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...