کوئی اُداسی کا نغمہ گاؤ، اُداس شامیں پہنچ رہی ہیں
نِچوڑ کر خُوں، دیے جلاؤ، اُداس شامیں پہنچ رہی ہیں
جہاں اُداسی سے ہو حفاظت جہاں پہ وحشت پہنچ نہ پائے
مُجھے وہاں پر ابھی لے جاؤ، اُداس شامیں پہنچ رہی ہیں
یہاں پہ آ کر کریں گی آرام وہ سو چمکا دو اِس جگہ کو
یہ شامیانے یہاں لگاؤ، اُداس شامیں پہنچ رہی ہیں
مُجھے مُسرّت میں دیکھ کر جو ہمیشہ حیران رہتے تھے ناں!!
اُنہیں بُلاؤ، اُنہیں دِکھاؤ، اُداس شامیں پہنچ رہی ہیں
طویل مُدّت یُوں مُسکرا مُسکرا کے میں کافی تھک چُکا ہوں
سو پہلے سب سے مُجھے بُلاؤ، اُداس شامیں پہنچ رہی ہیں
جو چاند وحشت کی ہے علامت اُسے بھی کہہ دو وہ منہ چُھپا لے
اُسے بھی جا کر ذرا بتاؤ، اُداس شامیں پہنچ رہی ہیں
تباہ کر دیں گی وہ تُمہیں سو اگر ہے بچنا تو یُوں کرو پھر
ہرے درختوں میں گھر بناؤ، اُداس شامیں پہنچ رہی ہیں
میں وعدہ کرتا ہوں ایک دِن ہم ضرور پھر سے مِلیں گے شوزب!!
ابھی خُدارا! یہاں سے جاؤ، اُداس شامیں پہنچ رہی ہیں
No comments:
Post a Comment