وہ نہیں ملتا مجھے ، اِس کا گلہ اپنی جگہ
اُس کے میرے درمیاں کا ، فاصلہ اپنی جگہ
زندگی کے اِس سفر میں ، سینکڑوں چہرے ملے
دلکشی اُن کی الگ ، پیکر تیرا اپنی جگہ
تجھ سے مِل کر ، آنے والے کل سے نفرت مول لی
اب کبھی تجھ سے نہ بچھڑوں ، یہ دعا اپنی جگہ
اِک مسلسل دوڑ میں ھیں ، منزلیں اور فاصلے
پاؤں تو اپنی جگہ ھیں ، راستہ اپنی جگہ۔
No comments:
Post a Comment