آ چاند نگر تجھے لے جاوُ ں
جہاں صرف پریمی بستے ہیں
جہاں تارے ہر دم ہنستے ہیں
جہاں کوہ قاف سے پریاں آتی ہیں
اور مست سروں میں گاتی ہیں
کوئی اور وہاں نہیں جا سکتا
وہ دھرتی ہے دل والوں کی
,ان چاہت کے متوالوں کی
اور سارے ہم خیالوں کی
وہاں چاند پے پڑھیا راہتی ہے
جو ہر پریمی سے کیتی ہے
جب دنیا دشمن ہو جاہے
اور مٹی میں سب کھو جائے
مت تنہا ہو کے گبھرانا
تم چاند نگر میں آجان...
No comments:
Post a Comment