یہ رات بھیگی بھیگی
یہ مست فضائیں
اُٹھا دھیرے دھیرے وہ چاند پیارا پیارا
یہ رات بھیگی بھیگی
یہ مست فضائیں
اُٹھا دھیرے دھیرے وہ چاند پیارا پیارا
کیوں آگ سی لگا کے گم سم ہے چاندنی
سونے بھی نہیں دیتا موسم کا یہ اشارہ
اٹھلاتی ہوا نیلم سا گگن
کلیوں پہ یہ بے ہوشی کی نمی
ایسے میں بھی کیوں بے چین ہے دل
جیون میں نہ جانے کیا ہے کمی
کیوں آگ سی لگا کے گم سم ہے چاندنی
سونے بھی نہیں دیتا موسم کا یہ اشارہ
یہ رات بھیگی بھیگی یہ مست فضائیں
اُٹھا دھیرے دھیرے وہ چاند پیارا پیارا
جو دن کے اجالے میں نہ ملا
دل ڈھونڈے ایسے سپنے کو
اس رات کی جگ مگ میں ڈوبی
میں ڈھونڈ رہی ہوں اپنے کو
یہ رات بھیگی بھیگی یہ مست فضائیں
اُٹھا دھیرے دھیرے وہ چاند پیارا پیارا
کیوں آگ سی لگا کے گم سم ہے چاندنی
سونے بھی نہیں دیتا موسم کا یہ اشارہ
ایسے میں کہیں کیا کوئی نہیں
بھولے سے جو ہم کو یاد کرے
ایک ہلکی سی مسکان سے جو
سپنوں کا جہاں آباد کرے
یہ رات بھیگی بھیگی یہ مست فضائیں
اُٹھا دھیرے دھیرے وہ چاند پیارا پیارا
کیوں آگ سی لگا کے گم سم ہے چاندنی
سونے بھی نہیں دیتا موسم کا یہ اشارہ
یہ رات بھیگی بھیگی یہ مست فضائیں
اُٹھا دھیرے دھیرے وہ چاند پیارا پیارl.
Nazim's poetry
Tuesday, September 4, 2018
Ye Raat Bheehi Bheegi
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment