ہائے وہ بانکی ادائیں اُس بت مےخوار کی شوخیاں گفتار کی اٹکھیلیاں رفتار کی
کوندتی رہتی ہے بجلی آتشِ رخسار کی آ گئی تُجھ پر طبیعت کافر و دین دار کی
No comments:
Post a Comment