Nazim's poetry

Nazim's poetry

Friday, March 9, 2012

کوئی غزل سنا کر کیا کرنا


کوئی غزل سنا کر کیا کرنا
یوں بات بڑھا کر کیا کرنا
تم میرے تھے تم میرے ہو
دنیا کو بتا کر کیا کرنا
تم عہد نبھاؤ چاہت سے
کوئی رسم نبھا کر کیا کرنا
تم خفا بھی اچھے لگتے ہو
پھر تم کو مانا کر کیا کرنا
تیرے در پے آکے بیٹھے ہیں
اب گھر بھی جا کر کیا کرنا
دن یاد سے اچھا گزرے گا
پھر تم کو بھلا کر کیا کرنا ؟
Image

No comments:

Post a Comment

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...